ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / شہریوں کی صحت کیلئے یونیورسل ہیلتھ کارڈ جلد، پانچ لاکھ روپیوں تک کا علاج مفت فراہم کرنے حکومت کی پہل: رمیش کمار

شہریوں کی صحت کیلئے یونیورسل ہیلتھ کارڈ جلد، پانچ لاکھ روپیوں تک کا علاج مفت فراہم کرنے حکومت کی پہل: رمیش کمار

Fri, 05 May 2017 02:13:51    S.O. News Service

بنگلورو:04/مئی (ایس اونیوز) ریاستی حکومت کا یہ مقصد ہے کہ ہر شہری کی صحت کی حفاظت کرے۔اس مقصد کیلئے حکومت یونیورسل ہیلتھ کارڈ لانے تیار ہے۔اس ضمن میں مختلف محکموں کے ساتھ بات چیت کی جارہی ہے۔ یہ بات آج وزیر صحت کے آر رمیش کمار نے کہی۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ روپیوں سے کم ہے ان کو ہر طرح کا علاج مفت اور جن لوگوں کی آمدنی پانچ لاکھ روپیوں تک ہے انہیں ہر طرح کے علاج میں 30 فیصد کا خرچ سرکاری طور پر برداشت کرنے کے سلسلے میں تفصیلی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ آمدنی کی حد کے متعلق محکمہئ انکم ٹیکس کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ اس محکمہ کی طرف سے جو تفصیلات حکومت کو دی جائیں گی اس کی بنیاد پر اس اسکیم کو آگے بڑھایا جائے گا۔ شہر کے پیالیس گراؤنڈ میں چار روزہ طبی میلے کے افتتاح کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ حکومت کا یہی مقصد ہے کہ ریاست کے ہر شہری کو معیاری طبی خدمات میسر رہیں۔ اس کیلئے خط افلاس سے نیچے یا اوپر کے امتیاز کو یکسر مٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسل ہیلتھ کارڈ دینے کے سلسلے میں آٹھ سے دس سرکاری محکموں کی بات چیت جاری ہے۔ اس کو قطعی شکل دینے کے بعد ریاستی عوام کی سہولت کیلئے یہ یونیورسل ہیلتھ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اس سارے منصوبے پر سالانہ 800 تا900 کروڑ روپیوں کا خرچ آنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہاکہ اس ہیلتھ کارڈ کے اجراء کے بعد حکومت کی طرف سے یہ لازمی قرار دیا جائے گا کہ ہر وزیر سرکاری افسر اور سرکاری ملازمین، اراکین اسمبلی، کارپوریٹرس اور حکومت کے نظام سے جڑے ہر فرد کو لازمی طور پر سرکاری اسپتال میں علاج کروانا ہوگا اور اگر ان لوگوں نے نجی اسپتال میں اپنا علاج کروایا تو ان کے علاج کا خرچ حکومت برداشت نہیں کرے گی۔وزیر موصوف نے بتایاکہ جون کے اختتام تک ریاست میں مزید 200 جنرک دواؤں کی دکانیں قائم کی جائیں گی۔اس سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ ریاستی حکومت نے معاہدہ بھی کرلیا ہے، 80 دکانوں میں کام بھی شروع کردیا گیا ہے، جون کے اختتام تک جہاں بھی ضرورت ہے دکانوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں فی الوقت 2150 پرائمری ہیلتھ سنٹرس ہیں جن میں سے 30 فیصد پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں ڈاکٹروں کی قلت ہے، جلد ازجلد اس قلت کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے تعلقہ اور ضلع اسپتالوں میں گردوں کے مریضوں کا علاج کرنے کیلئے ڈیالیسس سنٹرس شروع کردئے گئے ہیں۔مرحلہ وار ہر پرائمری ہیلتھ سنٹر میں ڈیالیسس کی مشینیں مہیا کرائی جائیں گی۔


Share: